میت ہندوستان کے قبرستان سے مدینہ منورہ کے قبرستان میں منتقل ہوگئ کیوں اور کیسے؟

Muhammad Asad 7 months ago

میت ہندوستان کے قبرستان سے مدینہ منورہ کے قبرستان میں منتقل ہوگئ کیوں اور کیسے؟

حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب (زلف و زنجیر)میں لکھا ہے کہ جب انگریز نے ھندوستان پر تسلط جما لیا تو حکمرانی کیلئے ایک ہائی کمشنر ہندوستان بھیجا ہائی کمشنر کی زبان انگریزی تھی اور ہندوستان کی سرکاری زبان فارسی تھی وہ کمشنر ہروقت ایک ترجمان اپنے ساتھ رکھتا۔ ایک بار اس کمشنر کو دقت پیش آئی تو اس نے سوچا جب تک میں خود فارسی زبان نہ سیکھ لوں میں حکمرانی میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔اس نے اپنے اہلکاروں سے ذکر کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہا ں مولوی سراج دین ہیں جو کہ بہت اچھی طرح فارسی پڑھا سکتے ہیں۔

اس کمشنر نے مولوی صاحب کو بلا کر مقصد بیان کیا تو مولوی سراج دین صاحب نے کہا میں عصر کے بعد فارغ ہو تا ہو ں آجایا کروں گا اور آپ کو فارسی زبان پڑھا جایا کر وں گا۔ یہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ایک دن مو لوی صاحب نے کہا صاحب ہم نے مغرب کی نماز پڑھنا ہوتی ہے تو کہا ں پڑھیں؟ کمشنر صاحب نے کہا یہ سب کمرے خالی ہیں جہاں چاہو نماز پڑھو مولوی صاحب نماز پڑھاتے اور جتنے اہلکار مسلمان تھے وہ پیچھے نماز پڑھ لیتے۔ایک دن مغرب کی نماز ہو رہی تھی کہ کمشنرکی بیٹی اس کمرے کے قریب سے گزری تو اس نے قرآن پاک کی قرأ ت سنی وہ مبہوت ہوگئی اور سوچنے لگ گئی کہ جس نبی(ﷺ) کی زبان میں اتنی چاشنی ہے اس نبی(ﷺ) کی اپنی کیا شان ہو گی۔دوسرے دن وہ قصداً آکر کھڑی ہو گئی اور سنتی رہی ایک د ن اس لڑکی نے اپنے باپ سے کہا!ابا میری ایک خواہش ہے باپ نے پو چھا وہ کیا ہے ؟اس نے کہا میں بھی فارسی زبان سیکھناچاہتی ہو ں۔ اس باپ (کمشنر)نے کہایہ کونسی مشکل بات ہے مولو ی سراج دین مجھے پڑھانے آتے ہیں تو بھی ان سے پڑھ لیا کر۔سلسلہ شروع ہو گیا تو وہ لڑکی چونکہ نوعمر تھی وہ جلدی فارسی سیکھ گئی۔ ایک د ن اس لڑکی کی خادمہ آئی اور مولوی صاحب سے کہا آپ کو صاحب کی بیٹی بلا رہی ہے۔

مولوی صاحب جب اس کمرہ میں گئے تو اس لڑکی نے مودبانہ سلام عرض کرنے کے بعد کہا استاد جی مجھے فارسی زبان میں ایسی کتابیں لاکر دیں جن میں آپ کے نبی کی سیرت ہو۔ مولوی صاحب نے چند کتابیں لاکر دے دیں۔ پھر ایک دن لڑکی کی خادمہ آئی اور کہا مولوی صاحب آپ کو صاحب کی بیٹی بلارہی ہے آپ اس کے کمرہ میں گئے تواس نے عرض کیا استاد صاحب میرے والدین نے میرا نام مریم رکھاہوا ہے۔ لیکن آج سے میرا نام فاطمہ ہے۔ میں مسلمان ہو نا چاہتی ہوں۔ استاد صاحب نے کلمہ پڑھایا تو وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئی۔ ایک دن پھر لڑکی کی خادمہ آئی اور مولوی صاحب کو بلا کر لے گئی۔ مولوی صاحب گئے تو دیکھا لڑکی کو بخارہے۔ لڑکی نے عرض کیا استاد جی اب میں عنقریب دنیا سے جارہی ہو ں۔ میری ایک وصیت ہے کہ مجھے عیسائیوں کے قبرستان سے نکال کر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیں۔ مولوی صاحب چلے گئے تود وسرے دن اعلان ہو گیا کہ صاحب کی لڑکی فوت ہوگئی ہے۔ اس کو عیسائیوں کے قبرستان لے گئے۔ مولوی صاحب بھی ساتھ گئے جب اس کو دفن کیا تومولوی صاحب نے اپنے دماغ میں اس کا حدود اربعہ جما لیا کیو نکہ یہ کام رات کو کرنا ہے میں کہیں قبر بھول نہ جاؤں۔

مولوی صاحب نے گھر جاکر اپنے چار مسلمان شاگردوں کو بلاکر لڑکی کی وصیت بتائی انہوں نے عرض کیا استاد جی اگر جان بھی جائے تو پرواہ نہیں ہم اپنی مسلمان بہن کی وصیت پوری کریں گے۔ انہوں نے کدال وغیرہ لیا رات ڈھلنے کے بعد پا نچوں نکلے، قبرستان گئے مولوی صاحب نے بتایا یہ قبر ہے۔جب قبر کھولی تو دیکھا کہ اس قبر میں بارہ بنکی (ہندوستان کاایک شہرہے) کے مرزا صاحب لیٹے ہوئے ہیں ایک شخص نے پہچان لیا۔ اس نے کہا استادجی آپ قبر بھول گئے ہیں فرمایا نہیں قبر یہی ہے۔ شاگردوں نے کہا پھرواپس چلیں، مٹی برابر کی اور واپس گھر پہنچے تو ایک نے کہا ہمیں بارہ بنکی جانا چاہیے تاکہ کچھ بھید توکھلے۔جب بارہ بنکی مرزا کے گھر پہنچے تو پوچھا کہ مرزا صاحب کہا ں ہیں؟جواب ملا وہ تین دن قبل فوت ہو گئے ہیں۔ آنے والو ں نے کہاہمیں مرزا صاحب کی قبر بتائی جائے تاکہ ہم فاتحہ ہی پڑھ لیں۔ ان لو گوں نے ملازم کو ساتھ بھیجا وہ قبر دکھا کر آگیا تو ان لوگوں نے قبر کا نقشہ اچھی طرح ذہن نشین کرلیا اور پھر رات کو گئے قبر کھولی تو وہاں ایک عربی لیٹا ہوا ہے۔

یہ دیکھ کر شاگردوں نے کہا استاد جی اب یہ ہمارے بس کی بات نہیں، چلوواپس چلیں۔جب وہ اپنے شہرمیں آکر سوئے تو مولوی سراج دین کو وہ کمشنر کی بیٹی خواب میں ملی نورانی تاج پہنا ہوا ہے بڑی خوش ہے اور عرض کیا!استاد جی جوکام آپ نے کر نا تھا وہ قدرت نے کر دیا ہے۔ہوا یوں کہ جب میری روح پرواز کرگئی تو مجھے جنت پہنچایا گیا تو چونکہ میرے دل میں رسول اللہ ﷺ کاعشق تھا اس لئے میری روح کو جنت سے مدینہ منورہ لایا گیا مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے سرکار کی زیارت کی تو رحمت دوعالم ﷺ نے ان فرشتوں سے فرمایا جن کی ڈیوٹی یہ ہے کہ مردوں کو منتقل کر تے ہیں (حدیث پاک میں ہے کچھ فرشتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردوں کو منتقل کر تے ہیں۔ مقاصد حسنہ)اے فرشتو!یہ جو کمشنر کی بیٹی ہے اس کے دل میں میری محبت ہے اسے وہا ں سے جنت البقیع لے آؤ اور اس عربی کے دل میں ہندوستان کی محبت تھی لہٰذا اسے بارہ بنکی ہندوستان لے جاؤ۔اور بارہ بنکی کا مرزا اس کے دل میں انگریز کی محبت تھی اس کا کھانا انگریزی، پینا انگریزی،رہن سہن انگریزی تھا اور قانون ہے کہ جس کو کسی کے ساتھ پیار ہو گا اس کا حشر بھی اسی کے ساتھ ہو گا (اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ) لہٰذا بارہ بنکی کے مرزا کو عیسائیوں کے قبرستان..

عالمی تبلیغ الاسلام کا تعارف
Tabligh Ul Islam International is a non political islamic organization. Our Aim is to spread true spirit of islam every where in the world. All services on our website are free of cost and will remain free of cost ever.
خبریں اور اپ ڈیٹ
Weekly Mahfil e Durood Shareef

Published:Mar 19, 2018

فیس بک پر ہم سے رابطہ کریں
سبسکرائب کریں

خصوصی کتابیں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں

Yo, you had better fill this out, it's required.
I'm required!
; ;